چین اور جرمنی عالمی معیشت کی مستحکم ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، چینی صدر

بیجنگ :چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چین کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر کے ساتھ بات چیت کی۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور جرمنی بالترتیب دنیا کی دوسری اور تیسری بڑی معیشتیں ہیں اور دونوں ممالک پر چین۔یورپ تعلقات کو فروغ دینے اور عالمی معیشت کی مستحکم ترقی میں اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ فریقین کو رابطوں اور تعاون کو مضبوط بناتے ہوئے مساوات اور باہمی مفادات پر مبنی اسٹریٹجک استحکام کے حامل تعاون کا نیا نمونہ تشکیل دینا چاہیے، تاکہ عالمی برادری کو یہ مثبت پیغام دیا جا سکے کہ ہمیں رکاوٹوں کے بجائے کھلے پن اور محاذ آرائی کے بجائے تعاون کی ضرورت ہے۔ چین جرمنی کے ساتھ مل کر دوطرفہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا نیا باب رقم کرنے اور زیادہ منصفانہ و معقول عالمی نظامِ حکمرانی کی تعمیر کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔ چینی صدر نے زور دیا کہ جرمنی کے حوالے سے چین کی پالیسی مسلسل، مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ہے۔ چین جرمنی کی حیثیت کا بھرپور احترام کرتا ہے، ہمیشہ اس کے اتحاد اور ترقی کی حمایت کرتا آیا ہے اور اسے یورپی و عالمی امور میں مزید اہم کردار ادا کرتے دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جرمنی کھلے پن اور مثبت رویے کے ساتھ چین کی ترقی اور اس کے ساتھ تعاون کو دیکھے گا، چین کے بارے میں عقلی، حقیقت پسندانہ اور دوستانہ پالیسی اپنائے گا اور باہمی احترام و مساوات کے اصولوں پر قائم رہے گا۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ یہی وہ قیمتی تجربہ ہے جس نے چین۔جرمنی تعلقات کو مسلسل صحت مند انداز میں آگے بڑھانے میں مدد دی ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ چین جرمنی سمیت تمام ممالک کی کمپنیوں کو اپنی وسیع مارکیٹ کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جرمنی کھلے پن اور شمولیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چینی کمپنیوں کو اپنے ہاں منصفانہ، شفاف اور غیر امتیازی کاروباری ماحول فراہم کرے گا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون مزید مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو ثقافت، تعلیم اور فنون کے شعبوں میں تبادلوں کی حمایت، عوام کی آمد و رفت میں سہولت اور باہمی قربت بڑھانے کے لیے کام کرنا چاہیے، تاکہ اگلے سال چین اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔ چینی صدر نے کہا کہ چین ہمیشہ یورپی یونین کو اپنا شراکت دار سمجھتا ہے اور یورپ کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے خلوص اور نیک نیتی رکھتا ہے۔ انہیں امید ہے کہ یورپی فریق چین کے ساتھ مل کر مساوات اور نظم پر مبنی کثیر قطبی دنیا اور جامع اور اشتراک پر مبنی اقتصادی عالمگیریت کو آگے بڑھائے گا۔شی جن پھنگ نے جرمن صدر کو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں کل رکنی اجلاس کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے کہا کہ جرمنی صدر شی جن پھنگ کی قیادت میں چین کی حاصل کردہ نمایاں ترقیاتی کامیابیوں کو سراہتا ہے۔ جرمنی ایک چین کی پالیسی پر ثابت قدم ہے اور دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی چین کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے جاری رکھنے اور تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ماحولیاتی تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور عوامی و ثقافتی تبادلوں کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ جرمن صدر نے کہا کہ دونوں فریق مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے تجارتی اختلافات کو مناسب انداز میں حل کر سکتے ہیں، جس سے باہمی فائدے کا حصول ممکن ہوگا اور عالمی سطح پر ایک مثبت مثال قائم کی جا سکے گی۔ جرمنی چین کے ساتھ مل کر عالمی امن و ترقی کی ذمہ داری نبھانے، اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کا تحفظ کرنے، آزاد تجارت اور عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں کی حمایت کرنے، تحفظ پسندی کی مخالفت کرنے اور تجارتی جنگ سے گریز کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔مذاکرات سے قبل صدر شی جن پھنگ اور ان کی اہلیہ پھنگ لی یوان نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال کے مشرقی دروازے کے باہر جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر اور ان کی اہلیہ کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی۔ اسی رات صدر شی جن پھنگ اور پھنگ لی یوان نے عظیم عوامی ہال کے گولڈن ہال میں جرمن صدر اور ان کی اہلیہ کے اعزاز میں استقبالیہ ضیافت کا اہتمام کیا۔

Comments (0)
Add Comment